اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، الجزائر کے وزیر مشیر و وزیر خارجہ احمد عطاف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سلامتی کونسل، ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور خطے کی صورت حال سمیت مختلف مسائل پر گفتگو کی۔
عطاف نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے سرکاری نعرے ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم اعتماد کیسے بحال کرسکتے ہیں؟ دنیا میں بحرانوں میں اضافے کے ساتھ ممالک کے درمیان اعتماد کم ہوتا ہے، طاقت کا منطق دوبارہ سامنے آتا ہے اور اتفاق رائے و مفاہمت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: بین الاقوامی قانون میں اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے، جب جارحیت کرنے والے کو اپنے دفاع کا حق دیا جاتا ہے؟ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاح ضروری ہے۔ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو زیادہ انصاف اور مساوات پر مبنی ہو۔ جب تک بین الاقوامی تعلقات کا نظام جنگوں کو ترجیح دیتا رہے گا، عالمی امن و سلامتی کی بات کرنا ممکن نہیں۔ لہٰذا الجزائر جنرل اسمبلی کے کردار اور اس کی بالادستی کو مضبوط بنانے اور سلامتی کونسل میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتا ہے، تاکہ اسے زیادہ منصفانہ اور مؤثر ادارہ بنایا جاسکے۔
الجزائر کے وزیر خارجہ نے مزید کہا: خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ اپنی تاریخ کے خطرناک ترین مراحل میں سے ایک سے گزر رہے ہیں۔ یہ صرف مسلسل جنگوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان سرحدوں کے کمزور ہونے کی وجہ سے بھی ہے جو ممالک کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں اور جن کی خلاف ورزی ریاستوں کے درمیان تعلقات میں ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا: الجزائر خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ جنگیں خطے کے ممالک اور ان کے عوام پر بوجھ بن رہی ہیں اور ان عوام کے استحکام، سلامتی اور خوشحالی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، جو ایسے تنازعات کے یرغمال بن گئے ہیں جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ الجزائر خطے کے ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں، اختلافات اور تنازعات سے نمٹنے کے لیے کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
عطاف نے کہا: الجزائر خطے کے ممالک، بالخصوص شام اور لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے تسلسل اور برادر ملک صومالیہ کو تقسیم کرنے کی اس کی کوششوں کی بھی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: فلسطین میں بھی انسانی المیے جاری ہیں اور قابض اسرائیل شہریوں، جن میں بچوں اور خواتین بھی شامل ہیں، کے خلاف جارحیت اور قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ایسا منظر ہے جسے دنیا کے لیے معمول کا منظر نہیں بننا چاہیے۔ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ فلسطینی عوام کی تکالیف ختم کرنے کی امید کے ساتھ نافذ کیا گیا، لیکن اسرائیل کی پالیسیوں کے تسلسل اور طے پانے والے معاہدوں کو نظر انداز کیے جانے کے باعث یہ امید ختم ہوگئی۔
عطاف نے کہا: الجزائر فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن میں ایک آزاد اور مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حق بھی شامل ہے، جس کا دارالحکومت قدس شریف ہو۔
انہوں نے مغربی صحارا کے عوام کی جانب سے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے بھی الجزائر کے موقف پر زور دیا اور لیبیا کے بارے میں کہا: لیبیا کے عوام خود آپس میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ الجزائر کا یقین ہے کہ سیاسی، فوجی اور سکیورٹی سمیت تمام قسم کی بیرونی مداخلت لیبیا میں تقسیم کی بنیادی وجہ ہے اور لیبیا کے عوام اپنی مرضی سے اپنی تقدیر کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ